کیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات کے ساتھ

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 68
نم ہیں پلکیں تری اے موجِ ہَوا، رات کے ساتھ
کیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات کے ساتھ
روٹھنے اور منانے کی حدیں ملنے لگیں
چشم پوشی کے سلیقے تھے، شکایات کے ساتھ
تجھ کو کھو کر بھی رہوں ،خلوتِ جاں میں تیری
جیت پائی ہے محبت نے عجب،مات کے ساتھ
نیند لاتا ہُوا،پھر آنکھ کو دُکھ دیتا ہُوا
تجربے دونوں ہیں وابستہ ہات کے ساتھ
کبھی تنہائی سے محروم نہ رکھّا مُجھ کو
دوست ہمدرد ہے،کتنے ،مری ذات کے ساتھ
پروین شاکر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s