کچھ اور رنگ ڈھنگ ہوا کائنات کا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 16
جب سے عطا ہوا ہمیں خلعت حیات کا
کچھ اور رنگ ڈھنگ ہوا کائنات کا
شیشہ اتار، شکوے کو بالائے طاق رکھ
کیا اعتبار زندگیِ بے ثبات کا
لڑتے ہو جب رقیب سے کرتے ہو مجھ سے صلح
مشتاق یاں نہیں کوئی اس التفات کا
گر تیرے تشنہ کام کو دے خضر مرتے دم
پانی ہو خشک چشمۂ آبِ حیات کا
یاں خار و خس کو بے ادبی سے نہ دیکھنا
ہاں عالمِ شہود ہے آئینہ ذات کا
کہتے ہیں جان، جانتے ہیں بے وفا مجھے
کیا اعتبار ہے انہیں دشمن کی بات کا
واعظ جنوں زدوں سے نہیں باز پرسِ حشر
بس آپ فکر کیجئے اپنی نجات کا
جوشِ سرشکِ خوں کے سبب سے دمِ رقم
نامہ نہیں رہا یہ ورق ہے برات کا
اے مرگ آ ، کہ میری بھی رہ جائے آبرو
رکھا ہے اس نے سوگ عدو کی وفات کا
ایسے کے آگے شیفتہ کیا چل سکے جہاں
احسان ایک عمر رہے، ایک رات کا
مصطفٰی خان شیفتہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s