کچھ آگ بھری ہوئی ہے نے میں

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 73
کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں
کچھ آگ بھری ہوئی ہے نے میں
کچھ زہر اگل رہی ہے بلبل
کچھ زہر ملا ہوا مے میں
بدمست جہان ہو رہا ہے
ہے یار کی بو ہر ایک شے میں
ہیں ایک ہی گل کی سب بہاریں
فروردیں میں اور فصلِ دَے میں
ہے مستئ نیم خام کا ڈر
اصرار ہے جامِ پے بہ پے میں
مے خانہ نشیں قدم نہ رکھیں
بزمِ جم و بارگاہِ کے میں
اب تک زندہ ہے نام واں کا
گزرا ہے حسین ایک جے میں
ہوتی نہیں طے حکایتِ طے
گزرا ہے کریم ایک طے میں
کچھ شیفتہ یہ غزل ہے آفت
کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں
مصطفٰی خان شیفتہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s