کوئی طوفاں ہو گا ناخدا ساحل تو کیا ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 22
سکوں بہر محبت میں ہمیں حاصل تو کیا ہو گا
کوئی طوفاں ہو گا ناخدا ساحل تو کیا ہو گا
ترے کہنے سے تیرا نام بھی لوں گا محشر میں
مگر مجھ سے اگر پوچھا گیا قاتل تو کیا ہو گا
قفس سے چھوٹ کر صیاد دیکھ آئینگے گلشن بھی
ہمارا آشیاں رہنے کے اب قابل تو کیا ہو گا
سرِ محشر میں اپنے خون سے انکار تو کر دوں
مگر چھینٹے ہوئے تلوار پر قاتل تو کیا ہو گا
قمر کے نام سے شرمانے والے سیر تاروں کی
نکل آیا جو ایسے میں مہِ کامل تو کیا ہو گا
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s