پھر بھی یہ کہوں جلوہ جاناں نہیں دیکھا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 22
کیا ذوق ہے کہ شوق ہے سو مرتبہ دیکھوں
پھر بھی یہ کہوں جلوہ جاناں نہیں دیکھا
محشر میں وہ نادم ہوں خدا یہ نہ دکھائے
آنکھوں نے کبھی اس کو پشیماں نہیں دیکھا
ہر چند ترے ظلم کی کچھ حد نہیں ظالم
پر ہم نے کسی شخص کو نالاں نہیں دیکھا
ملتا نہیں ہم کو دل گم گشتہ ہمارا
تو نے تو کہیں اے غم جاناں نہیں دیکھا
لو اور سنو کہتے ہیں وہ دیکھ کے مجھ کو
جو حال سنا تھا وہ پریشان نہیں دیکھا
کیا پوچھتے ہو کون ہے یہ کسی کی ہے شہرت
کیا تم نے کبھی داغ کا دیوان نہیں دیکھا
داغ دہلوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s