پتہ پتہ ہاتھ ملتا رہ گیا گلزار کا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 14
پھونک ڈالا برق نے گھر بلبلِ لاچار کا
پتہ پتہ ہاتھ ملتا رہ گیا گلزار کا
واہ کا کیا کہنا ہے اس پہلے پہل کے وار کا
میں ترے قربان قبضہ چوم لے تلوار کا
بڑھ تو جاؤ خون بھی کرنا کسی لاچار کا
تم تو اتنے بھی نہیں جتنا ہے قد تلوار کا
آگ تھی یا خونِ شہ رگ تھا کسی لاچار کا
عید بھی کل ہو گئی آیا نہ قاصد یار کا
اب بھلا ابھریں گے کیا بحرِ شہادت کے غریق
سر سے اونچا ہو گیا پانی تری تلوار کا
شمع گل، ڈوبے ہوئے تارے، اندھیرا، بے کسی
دیکھ کر چاروں طرف منا ترے بیمار کا
کس قدر بیکار تھی آہِ شبِ فرقت قمر
ہر ستارہ مسکرایا چرخ کنج رفتار کا
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s