وہ میرے سامنے تھے مگر کچھ نہ پوچھیے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 145
ان کی تجلیوں کا اشر کچھ نہ پوچھیے
وہ میرے سامنے تھے مگر کچھ نہ پوچھیے
از شامِ ہجر تا بہ سحر کچھ نہ پوچھیے
کٹتے ہیں کیسے چار پہر کچھ نہ پوچھیے
بجلی جو شاخ، گل پہ گری اس کا غم نہیں
لیکن وہ اک غریب کا گھر کچھ نہ پوچھیے
ہو ایک راستہ تو کوئی ڈھونڈے انھیں
کتنی ہے ان کی راہگزر کچھ نہ پوچھیے
تنکے وہ نرم نرم سے پھولوں کی چھاؤں میں
کیسا بنا تھا باغ میں گھر کچھ نہ پوچھیے
بس آپ دیکھ جایئے صورت مریض کی
نبضوں کا حال دردِ جگر کچھ نہ پوچھیے
جب چاندنی میں آ کے ہوئے تو وہ میہماں
تاروں بھری وہ رات قمر کچھ نہ پوچھیے
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s