وہ اگر آئے بھی تو میں دوپہر سمجھا نہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 83
بے خودی میں ان کے وعدے معتبر سمجھا نہیں
وہ اگر آئے بھی تو میں دوپہر سمجھا نہیں
اس نے کس جملے کو سن کر کہہ دیا تجھ سے کہ خیر
نامہ بر میں یہ جوابِ مختصر سمجھا نہیں
اس قفس کو چھوڑ دوں کیونکر کہ جس کے واسطے
میں نے اے صیاد اپنے گھر کو گھر سمجھا نہیں
تہمتیں ہیں مجھ پہ گمرآ ہی کی گستاخی معاف
خضر سا رہبر تمہاری رہگزر سمجھا نہیں
ہے مرض وہ کون سا جس کا نہیں ہوتا علاج
بس یہ کہئیے دردِ دل کو چارہ گر سمجھا نہیں
داغِ دل اس سے نہ پوچھا حالِ شامِ غم کے ساتھ
تم کو صورت سے وہ شاید اے قمر سمجھا نہیں
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s