وصل کا خواب مکمل ہو جائے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 90
رنگ ، خوشبو میں اگر حل ہو جائے
وصل کا خواب مکمل ہو جائے
چاند کا چوما ہُوا سرخ گلاب
تیتری دیکھے تو پاگل ہو جائے
میں اندھیروں کو اُجالُوں ایسے
تیرگی آنکھ کا کاجل ہو جائے
دوش پر بارشیں لے کے گُھومیں
مَیں ہوا اور وہ بادل ہو جائے
نرم سبزے پہ ذرا جھک کے چلے
شبنمی رات کا آنچل ہو جائے
عُمر بھر تھامے رہے خوشبو کو
پُھول کا ہاتھ مگر شل ہو جائے
چڑیا پتّوں میں سمٹ کر سوئے
پیٹریُوں پھیلے کہ جنگل ہو جائے
پروین شاکر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s