نقش معدوم ہُوئے جاتے ہیں ان ہاتھوں کے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 110
کِن لکیروں کی نظر سے ترا رستہ دیکھوں
نقش معدوم ہُوئے جاتے ہیں ان ہاتھوں کے
تُو مسیحا ہے،بدن تک ہے تری چارہ گری
تیرے امکاں میں کہاں زخم کڑوی باتوں کے
قافلے نکہت وانوار کے بے سمت ہُوئے
جب سے دُولھا نہیں ہونے لگے باراتوں کے
پھر رہے ہیں مرے اطراف میں بے چہرہ وجود
اِن کا کیا نام ہے ،یہ لوگ ہیں کِن ذاتوں کے
آسمانوں میں وہ مصروف بہت ہے___یاپھر
بانجھ ہونے لگے الفاظ مناجاتوں کے
پروین شاکر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s