میں نہ سمجھا تھا محبت اس قدر بدنام ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 131
سن کے نامِ عشق برہم وہ بتِ خود کام ہے
میں نہ سمجھا تھا محبت اس قدر بدنام ہے
نامہ بر ان سے کہنا نزع کا ہنگام ہے
ابتدائے خط نہیں یہ آخری پیغام ہے
چارہ گر میرے سکوں پر یہ نہ کہہ آرام ہے
اضطرابِ دل نہ ہونا موت کا پیغام ہے
ان کے جاتے ہی مری آنکھوں میں دنیا ہے سیاہ
اب نہیں معلوم ہوتا صبح ہے یا شام ہے
قافلے سے چھوٹنے والے ابھی منزل کہاں
دور تک سنسان جنگل ہے پھر آگے شام ہے
آپ کیوں پردے سے نکلے آپ پردے میں رہیں
آپ کو مشہور کر دینا ہمارا کام ہے
دیدۂ بیمار میں ہے اشکِ آخر کی جھلک
اے قمر تارا نکل آنا دلیلِ شام ہے
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s