میں ان سے خود کو ضرب دُوں کہ منقتسمِ کر لوں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 51
عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کر لوں
میں ان سے خود کو ضرب دُوں کہ منقتسمِ کر لوں
میں آندھیوں کی مزاج آشنا رہی ہوں مگر
خُود اپنے ہاتھ سے کیوں گھر کو منہدم کر لوں
بچھڑنے والوں کے حق میں کوئی دُعا کر کے
شکستِ خواب کی ساعت محتشم کر لوں
بچاؤ شیشوں کے گھر کا تلاش کرہی لیا
یہی کہ سنگ بدستوں کا مُنصرِم کر لوں
میں تھک گئی ہوں اِس اندر کی خانہ جنگی سے
بدن کو’’سامرا‘‘ آنکھوں کو ’’معتصمِ‘‘کر لوں
مری گلی میں کوئی شہر یار آتا ہے
ملا ہے حکم کہ لہجے کو محترم کر لوں
پروین شاکر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s