میلے سے بچھڑ کے آنسوؤں کے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 109
ڈھونڈا کیے ہاتھ جگنوؤں کے
میلے سے بچھڑ کے آنسوؤں کے
اِک رات کِھلا تھا اُس کا وعدہ
آنگن میں ہجوم خوشبوؤں کے
شہروں سے ہَوا جو ہوکے آئی
رم چھننے لگے ہیں آہوؤں کے
کس بات پہ کائنات تج دیں
کھلتے نہیں بھید سادھوؤں کے
تنہا مری ذات دشتِ شب میں
اطراف میں خیمے بدوؤں کے!
یہ بول ہوا کے لب پہ ہیں یا
منتر ہیں قدیم جادوؤں کے!
پروین شاکر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s