مر گئے لاکھوں اسی ارمان میں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 34
حضرت دل آپ ہیں جس دھیان میں
مر گئے لاکھوں اسی ارمان میں
گر فرشتہ وش ہوا کوئی تو کیا
آدمیت چاہئے انسان میں
جس نے دل کھویا اسی کو کچھ ملا
فائدہ دیکھا اسی نقصان میں
کسی نے ملنے کا کیا وعدہ کہ داغ
آج ہو تم اور ہی سامان میں
داغ دہلوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s