مدت سے اسی طرح نبھی جاتی ہے با ہم

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 64
گہ ہم سے خفا وہ ہیں گہے ان سے خفا ہم
مدت سے اسی طرح نبھی جاتی ہے با ہم
کرتے ہیں غلط یار سے اظہارِ وفا ہم
ثابت جو ہوا عشق، کجا یار کجا ہم
کچھ نشۂ مے سے نہیں کم نشۂ نخوت
تقویٰ میں بھی صہبا کا اٹھاتے ہیں مزا ہم
موجود ہے جو لاؤ جو مطلوب ہے وہ لو
مشتاقِ وفا تم ہو طلب گارِ جفا ہم
نے طبعِ پریشاں تھی نہ خاطر متفرق
وہ دن بھی عجب تھے کہ ہم اور آپ تھے باہم
کیا کرتے ہیں، کیا سنتے ہیں، کیا دیکھتے ہیں، ہائے
اس شوخ کے جب کھولتے ہیں بندِ قبا ہم
یہ طرزِ ترنم کہیں زنہار نہ ڈھونڈو
اے شیفتہ یا مرغِ چمن رکھتے ہیں، یا ہم
مصطفٰی خان شیفتہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s