مدتیں گزریں نہیں آتے وہ چلمن کے قریب

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 37
گر پڑی ہے جب سے بجلی دشتِ ایمن کے قریب
مدتیں گزریں نہیں آتے وہ چلمن کے قریب
میرا گھر جلنا لکھا تھا ورنہ تھی پھولوں پہ اداس
ہر طرف پانی ہی پانی تھا نشیمن کے قریب
اب سے ذرا فاصلے پر ہے حدِ دستِ جنوں
آ گیا چاکِ گریباں بڑھ کے دامن کے قریب
وہ تو یوں کہیئے سرِ محشر خیال آ ہی گیا
ہاتھ جا پہنچا تھا ورنہ ان کے دامن کے قریب
میں قفس سے چھٹ کے جب آیا تو اتنا فرق تھا
برق تھی گلشن کے اندر میں تھا گلشن کے قریب
کیا کہی گی اے قمر تاروں کی دنیا دیکھ کر
چاندنی شب میں وہ کیوں روتے ہیں مدفن کے قریب
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s