مجھ میں اُتر گیا ہے وہ سرطان کی طرح

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 32
دشمن ہے اور ساتھ رہے جان کی طرح
مجھ میں اُتر گیا ہے وہ سرطان کی طرح
جکڑے ہُوئے ہے تن کو مرے ، اس کی آرزو
پھیلا ہُوا ہے جال سا شریان کی طرح
دیوار و در نے جس کے لیے ہجر کاٹے تھے
آیا تھا چند روز کو ، مہمان کی طرح
دکھ کی رُتوں میں پیڑ نے تنہا سفر کیا
پتّوں کو پہلے بھیج کے سامان کی طرح
گہرے خنک اندھیرے میں اُجلے تکلّفات
گھر کی فضا بھی ہو گئی شیزان کی طرح
ڈوبا ہُوا ہے حسنِ سخن میں سکوتِ شب
تارِ ربابِ رُوح میں کلیان کی طرح
آہنگ کے جمال میں انجیل کی دُعا
نرمی میں اپنی ، سورہ ءِ رحمان کی طرح
پروین شاکر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s