ماں کی ردا تو ، دن ہُوئے نیلام ہو چکی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 79
اب کیسی پردہ داری ، خبر عام ہو چکی
ماں کی ردا تو ، دن ہُوئے نیلام ہو چکی
اب آسماں سے چادرِ شب آئے بھی تو کیا
بے چاری زمین پہ الزام ہو چکی
اُجڑے ہُوئے دیارپہ پھر کیوں نگاہ ہے
اس کشت پر تو بارشِ اکرام ہو چکی
سُورج بھی اُس کو ڈھونڈ کے واپس چلا گیا
اب ہم بھی گھر کو لوٹ چلیں ، شام ہو چکی
شملے سنبھالتے ہی رہے مصلحت پسند
ہونا تھا جس کو پیار میں بدنام ہو چکی
کوہِ ندا سے بھی سخن اُترے اگر تو کیا
نا سامعوں میں حرمتِ الہام ہو چکی
پروین شاکر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s