لیکن میں تشنہ لب کا وہی تشنہ لب رہا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 28
گو دورِ جام بزم میں تا ختمِ شب رہا
لیکن میں تشنہ لب کا وہی تشنہ لب رہا
پروانہ میری طرح مصیبت میں کب رہا
بس رات بھر جلا تری محفل میں جب رہا
ساقی کی بزم میں یہ نظامِ ادب رہا
جس نے اٹھائی آنکھ وہی تشنہ لب رہا
سرکار پوچھتے ہیں کہ خفا ہو کے حالِ دل
بندہ نواز میں تو بتانے سے ادب رہا
بحر جہاں میں ساحل خاموش بن کے دیکھ
موجیں پڑیں گی پاؤں جو تو تشنہ لب رہا
وہ چودھویں کا چاند نہ آیا نظر قمر
میں اشتیاقِ دید میں تا ختمِ شب رہا
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s