غالباً کچھ تو ہوا ہے مری تسکیں کا خیال

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 61
یاں کے آنے میں نہیں ان کو جو تمکیں کا خیال
غالباً کچھ تو ہوا ہے مری تسکیں کا خیال
کفِ افسوس مَلے سے بھی پڑے ہاتھ میں نقش
بس کہ ہے دل میں مرے دستِ نگاریں کا خیال
گو مجھے عاشقِ مفلس وہ کہیں طعنے سے
تو بھی کیوں کر نہ رکھوں ساعدِ سیمیں کا خیال
تعزیت کو مری وہ آئے تو کیا ذلت ہے
اہلِ ماتم کو نہیں بزم کی تزئیں کا خیال
کیوں نہ ہو دستِ مژہ ماتمیوں کا رنگیں
مرتے دم تھا مجھے اس پنجۂ رنگیں کا خیال
سخنِ عشق ہے پتھر کی لکیر اے پرویز
دلِ فرہاد سے کیوں کر مٹے شیریں کا خیال
کیا مسلمان ہیں ہم شیفتہ سبحان اللہ
دل سے جاتا نہیں دم بھر بتِ بے دیں کا خیال
مصطفٰی خان شیفتہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s