صبح کے ہونٹ کِتنے نیلے ہیں !

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 63
رات کے زہر سے رسیلے ہیں
صبح کے ہونٹ کِتنے نیلے ہیں !
ریت پر تیرتے جزیرے میں
پانیوں پر ہَوا کے ٹِیلے ہیں
ریزگی کا عذاب سہنا ہے
خوف سے سارے پیڑ پیلے ہیں
ہجر، سناّٹا،پچھلے پہر کا چاند
خود سے ملنے کے کچھ وسیلے ہیں
دستِ خوشبو کرے مسیحائی
ناخنِ گُل نے زخم چھیلے ہیں
عشق سورج سے وہ بھی فرمائیں
جو شبِ تار کے رکھیلے ہیں
خوشبوئیں پھر بچھڑ نہ جائیں کہیں
ابھی آنچل ہَوا کے گیلے ہیں
کھڑکی دریا کے رُخ پہ جب سے کُھلی
فرش کمروں کے سیلے سیلے ہیں
پروین شاکر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s