شکستہ کشتیوں پر بادباں ہوں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 54
ہوا سے جنگ میں ہوں ، بے اماں ہوں
شکستہ کشتیوں پر بادباں ہوں
میں سُورج کی طرح ہوں دھوپ اوڑھے
اور اپنے آپ پر خود سائباں ہوں
مجھے بارش کی چاہت نے ڈبویا
میں پختہ شہر کا کچّا مکاں ہوں
خُود اپنی چال اُلٹی چلنا چاہوں
میں اپنے واسطے خود آسماں ہوں
دُعائیں دے رہی ہوں دشمنوں کو
اور اِک ہمدرد پر نامہرباں ہوں
پرندوں کو دُعا سِکھلا رہی ہوں
میں بستی چھوڑ ، جنگل کی اذاں ہوں
ابھی تصویر میری کیا بنے گی
ابھی تو کینوس پر اِک نشاں ہوں
پروین شاکر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s