شمع رو دے گی مگر نہ لے گی پروانے کا نام

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 50
حسن سے رسوا نہ ہو گا اپنے دیوانے کا نام
شمع رو دے گی مگر نہ لے گی پروانے کا نام
ہو گئی توبہ کو اک مدت کسے اب یاد ہے
اصطلاحاً ہم نے کیا رکھا تھا پیمانے کا نام
میتِ پروانہ بے گور و کفن دیکھا کئے
اہلِ محفل نے لیا لیکن نہ دفنانے کا نام
یہ بھی ہے کوئی عیادت دو گھڑی بیٹھے نہ وہ
حال پوچھا چل دیے گھر کر گئے آنے کا نام
لاکھ دیوانے کھلائیں گل چمن کہہ دے گا کون
عارضی پھولوں سے بدلے گا نہ ویرانے کا نام
ان کو کوسے دے رہے، ہو خود، ہیں جو جینے سے تنگ
زندگی رکھا ہے جن لوگوں نے مر جانے کا نام
اِس ہوا میں قوتِ پرواز سے آگے نہ بڑھ
ہے قفس آزادیوں کی حد گزر جانے کا نام
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s