سخت بے تاب ہیں مزار میں ہم

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 66
مر گئے ہیں جو ہجرِ یار میں ہم
سخت بے تاب ہیں مزار میں ہم
تا دلِ کینہ ور میں پائیں جگہ
خاک ہو کر ملے غبار میں ہم
وہ تو سو بار اختیار میں آئے
پر نہیں اپنے اختیار میں ہم
کب ہوئے خارِ راہِ غیر بھلا
کیوں کھٹکتے ہیں چشمِ یار میں ہم
کوئے دشمن میں ہو گئے پامال
آمد و رفتِ بار بار میں ہم
نعش پر تو خدا کے واسطے آ
مر گئے تیرے انتظار میں ہم
گر نہیں شیفتہ خیالِ فراق
کیوں تڑپتے ہیں وصلِ یار میں ہم
مصطفٰی خان شیفتہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s