راہبر تو لوٹ لے شکوہ کریں منزل سے ہم

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 53
متفق کیونکر ہوں ایسے مشورے پر دل سے ہم
راہبر تو لوٹ لے شکوہ کریں منزل سے ہم
راہبر کا ہو بھلا پہلے ہی گھر لٹو دئیے
لوٹ کر جائیں تو جائیں بھی کہاں منزل سے ہم
شمع گل کر دینے والے ہو گئی روشن یہ بات
ٹھوکریں کھاتے ہوئے نکلیں تری محفل سے ہم
ہم کو دریا برد کرنے والے وہ دن یاد کر
تجھ کو طوفاں میں بچانے آئے تھے ساحل سے ہم
یہ نہیں کہتے کہ دولت رات میں لٹ جائے گی
ہم پہ احساں ہے کہ سوتے ہیں بڑی مشکل سے ہم
ہی نہ کہئیے غم ہوا کشتی کا یوں فرمائیے
اک تماشہ تھا جسے دیکھا کیے ساحل سے ہم
اب تو قتلِ عام اس صورت سے روکا جائے گا
بڑھ کے خنجر چھین کیں گے پنجۂ قاتل سے ہم
رسمِ حسن و عشق میں ہوتی ہیں کیا پابندیاں
آپ پوچھیں شمع سے پروانۂ محفل سے ہم
کس خطا پر خوں کیئے اے مالکِ روزِ جزا
تو اگر کہہ دے تو اتنا پوچھ لیں قاتل سے ہم
موجِ طوفاں سے بچا لانے پہ اتنا خوش نہ ہو
اور اگر اے ناخدا ٹکرا گئے ساحل سے ہم
نام تو اپنا چھپا سکتے ہیں لیکن کیا کریں
اے قمر مجبور ہو جاتے ہیں داغِ دل سے ہم
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s