ذرے تک میں تو ہی تو ہے خاک زمانہ چھانے ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 130
عالم تجھ کو دیکھ رہا ہے کوئی کب پہچانے ہے
ذرے تک میں تو ہی تو ہے خاک زمانہ چھانے ہے
چھاننے دو دیوانہ ان کا خاک جو در در چھانے ہے
کوئی کسی کو کیا سمجھائے کون کسی کی مانے ہے
میں اور مے خانے میں بیٹھا شیخ ارے ٹک توبہ کر
مردِ خدا میں جانوں نہ تانوں مجھ کو تو کیوں سانے ہے
مے خانے میں دنیا دنیا آئے دنیا سے کچھ کام نہیں
جام اسی کو ے گا ساقی جس کو ساقی جانے ہے
جام نہ دینے کی باتیں ہیں ورنہ مجھ کو ویسے تو
ساقی جانے میکش جانے مے خانہ بھر جانے ہے
کون قمر سے ہے بیگانہ اہل زمیں یا اہل فلک
ذرہ ذرہ اس سے واقف تارا تارا جانے ہے
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s