ذرا سے ابر میں گم آفتاب کیا ہوتا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 7
پسِ نقاب رخِ لاجواب کیا ہوتا
ذرا سے ابر میں گم آفتاب کیا ہوتا
ہمیں تو جو بھی گیا وہ فریب دے کہ گیا
ہوئے نہ کم سنی اپنی شباب کیا ہوتا
کلیم رحم تجلی کو آگیا ہو گا
وگرنہ ذوقِ نظر کامیاب کیا ہوتا
قفس کے سے چھوٹ کے آئے تو خاک تک نہ ملی
چمن اور نشیمن خراب کیا ہوتا
تمھارے اور بھی وعدوں کی شب یوں ہی کاٹی
یقین ہی نہ ہوا اضطراب کیا ہوتا
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s