دیوانے ہیں اس زلفِ گرہ گیر کے مشتاق

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 60
پابندیِ وحشت میں زنجیر کے مشتاق
دیوانے ہیں اس زلفِ گرہ گیر کے مشتاق
بے رحم نہیں جرمِ وفا قابلِ بخشش
محروم ہیں کس واسطے تعزیر کے مشتاق
رہتے تھے بہم جن سے مثالِ ورق و حرف
اب ان کی رہا کرتے ہیں تحریر کے مشتاق
لکھتا ہوں جو میں آرزوئے قتل میں نامے
ہیں میرے کبوتر بھی ترے تیر کے مشتاق
کیوں قتل میں عشاق کے اتنا ہے تغافل
مر جائیں گے ظالم دمِ شمشیر کے مشتاق
اے آہ ذرا شرم کہ وہ کہتے ہیں اکثر
مدت سے ہیں ہم آہ کی تاثیر کے مشتاق
سیماب تھا دل، جل کے سو اب خاک ہوا ہے
لے جائیں مری خاک کو اکسیر کے مشتاق
کیا ہجر کے دن آنے میں ہے عذر سنیں تو
ہم ہیں ملک الموت کی تقریر کے مشتاق
دل سرد کے سن کے ترے لالۂ موزوں
تھے شیفتہ ہم محسنِ تاثیر کے مشتاق
مصطفٰی خان شیفتہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s