دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیئے ہوئے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 113
دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیئے ہوئے
دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیئے ہوئے
دیکھا خدا پہ چھوڑ کہ کشتی کو نا خدا
جیسے خود آگیا کوئی ساحل لیئے ہوئے
دیکھ ہمارے صبر کی ہمت نہ ٹوٹ جائے
تم رات دن ستاؤ مگر دل لیئے ہوئے
وہ شب بھی یاد ہے کہ میں پہنچا تھا بزم میں !
اور تم اٹھے تھے رونق محفل لیئے ہوئے
اپنی ضروریات ہیں اپنی ضروریات
آنا پڑا مطلب تمہیں دل لیئے ہوئے
بیٹھا جو دل تو چاند دکھا کر کہا قمر !
وہ سامنے چراغ ہے منزل لیئے ہوئے
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s