حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 71
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے وہ کھڑے وہ
حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ
بُھولا نہیں دل ، ہجر کے لمحات کڑے وہ
راتیں تو بڑی تھیں ہی، مگر دن بھی بڑے وہ!
کیوں جان پہ بن آئی ہے ، بِگڑا ہے اگر وہ
اُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ
الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات
خوشبو سی برسنے لگی، یوں پُھول جھڑے وہ
ہر شخص مجھے ، تجھ سے جُدا کرنے کا خواہاں
سُن پائے اگر ایک تو دس جا کے حروف جڑے وہ
بچے کی طرح چاند کو چُھونے کی تمنا
دِل کی کوئی شہ دے دے تو کیا کیا نہ اڑے وہ
طوفاں ہے تو کیا غم،مجھے آواز تو دیجے
کیا بُھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ
پروین شاکر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s