حیرت سے پلک جھپک رہی ہوں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 56
منظر ہے وہی ٹھٹک رہی ہوں
حیرت سے پلک جھپک رہی ہوں
یہ تُو ہے کہ میرا واہمہ ہے!
بند آنکھوں سے تجھ کو تک رہی ہوں
جیسے کہ کبھی نہ تھا تعارف
یوں ملتے ہوئے جھجک رہی ہوں
پہچان! میں تیری روشنی ہوں
اور تیری پلک پلک رہی ہوں
کیا چَین ملا ہے………سر جو اُس کے
شانوں پہ رکھے سِسک رہی ہوں
پتّھر پہ کھلی ، پہ چشمِ گُل میں
کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہوں
جگنو کہیں تھک کے گرِ چُکا ہے
جنگل میں کہاں بھٹک رہی ہوں
گڑیا مری سوچ کی چھنی کیا
بچّی کی طرح بِلک رہی ہوں
اِک عمر ہُوئی ہے خُود سے لڑتے
اندر سے تمام تھک رہی ہوں
رس پھر سے جڑوں میں جا رہا ہے
میں شاخ پہ کب سےپک رہی ہوں
تخلیقِ جمالِ فن کا لمحہ!
کلیوں کی طرح چٹک رہی ہوں
پروین شاکر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s