جو ہم پی کر چلے آئے تو میخانے پہ کیا گزری

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 92
نہ جانے ساغر و مینا پہ پیمانے پہ کیا گزری
جو ہم پی کر چلے آئے تو میخانے پہ کیا گزری
بڑی رنگینیاں تھیں اولِ شب ان کی محفل میں
بتاؤ بزم والو رات ڈھل جانے پہ کیا گزری
چھپائیں گے کہاں تک رازِ محفل شمع کے آنسو
کہے گی خاکِ پروانہ کہ پروانے پہ کیا گزری
مرا دل جانتا ہے دونوں منظر میں نے دیکھے ہیں
ترے آنے پہ کیا گزری ترے جانے پہ کیا گزری
بگولے مجھ سے کوسوں دور بھاگے دشتِ وحشت میں
بس اتنا میں نے پوچھا تھا کہ دیوانے پہ کیا گزری
گری فصلِ چمن پر برق دیوانے یہ کیا جانیں
مصیبت باغ پر گزری تھی ویرانے پہ کیا گزری
قمر جھیلے دِلِ صد چاک نے الفت میں دکھ کیا کیا
کوئی زلفوں سے اتنا پوچھ لے شانے پہ کیا گزری
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s