تو نے جسے ستایا تو نے جسے دغا دی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 91
میں کون ہوں بتا دوں او بھولنے کی عادی
تو نے جسے ستایا تو نے جسے دغا دی
مجھ تشنہ لب کی ساقی تشنہ لبی بڑھا دی
دے کر ذرا سا پانی اک آگ سی لگا دی
ایسی بھی کیا جفائیں برہم ہو نظمِ الفت
تو نے تو فقرِ دل کی بنیاد ہی ہلا دی
جب چاہا رخ پہ چن لی اس سے مہ جبیں نے افشاں
جب چاہا دن میں دنیا تاروں سے جگمگا دی
اہلِ چمن نے اتنا پوچھا نہ بوئے گل سے
آوارہ پھر رہی ہے کیوں اے حسین زادی
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s