توبہ مری پھرے گی کہاں بھیگتی ہوئی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 87
بارش میں عہد توڑ کے گر مئے کشی ہوئی
توبہ مری پھرے گی کہاں بھیگتی ہوئی
پیش آئے لاکھ رنج اگر اک خوشی ہوئی
پروردگار یہ بھی کوئی زندگی ہوئی
اچھا تو دونوں وقت ملے کو سئے حضور
پھر بھی مریض غم کی اگر زندگی ہوئی
اے عندلیب اپنے نشیمن کی خیر مانگ
بجلی گئی ہے سوئے چمن دیکھتی ہوئی
دیکھو چراغِ قبر اسے کیا جواب دے
آئے گی شامِ ہجر مجھے پوچھتی ہوئی
قاصد انھیں کو جا کہ دیا تھا ہمارا خط
وہ مل گئے تھے، ان سے کوئی بات بھی ہوئی
جب تک کہ تیری بزم میں چلتا رہے گا جام
ساقی رہے گی گردشِ دوراں رکی ہوئی
مانا کہ ان سے رات کا وعدہ ہے اے قمر
کیسے وہ آسکیں گے اگر چاندنی ہوئی
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s