تند ہے، تلخ ہے، لیکن ہے مئے ناب لذیذ

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 47
طلبِ بوسہ پر اس لب سے شکر آب لذیذ
تند ہے، تلخ ہے، لیکن ہے مئے ناب لذیذ
کچھ مزا تو نہ سمجھ خضرِ اُمورِ عشرت
سب مزاجوں میں نہیں ایک سے اسباب لذیذ
سَم کی تاثیر کرے ہجر میں آبِ حیواں
مے گل گوں سے سوا وصل میں ہے آب لذیذ
ردِ زحاد سہی پر نہیں مقبولِ مغاں
تا نہ معلوم ہو تلخیِ مے ناب لذیذ
شیفتہ ذوقِ سحر اس نے کہاں دیکھا ہے
وہ جو کہتا ہے کہ ہے آخرِ شب، خواب لذیذ
مصطفٰی خان شیفتہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s