بند ہوتا نہیں کھل کر کبھی دروازۂ گل

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 49
ہے سخاوت میں مجھے اتنا اندازۂ گل
بند ہوتا نہیں کھل کر کبھی دروازۂ گل
برق پر پھول پنسے برق نشیمن پہ گری
میرے تنکوں کو بھگتنا پڑا خمیازۂ گل
خیر گلشن میں اڑا تھا مری وحشت کا مذاق
اب وہ آوازۂ بلبل ہو کہ آوازۂ گل
کوششیں کرتی ہوئی پھرتی گلشن میں نسیم
جمع ہوتا نہیں بھکرا ہو شیرازۂ گل
اے صبا کس کی یہ سازش تھی کہ نکہت نکلی
تو نے کھولا تھا کہ خود کھل گیا دروازۂ گل
زینتِ گل ہے قمر ان کی صبا رفتاری
پاؤ سے گر اڑی بھی تو بنی غازۂ گل
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s