اگر خدائی بتوں کی ہوتی تو دیر ہوتا حرم نہ ہوتا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 8
نگاہِ دنیائے عاشقی میں وجودِ دل محترم نہ ہوتا
اگر خدائی بتوں کی ہوتی تو دیر ہوتا حرم نہ ہوتا
رہِ محبت میں دل کو کب تک فریبِ دیرو حرم نہ ہوتا
ہزاروں سجدے بھٹکتے پھرتے جو تیرا نقشِ قدم نہ ہوتا
نہ پوچھ صیاد حال مجھ سے کہ کیوں مقدر پہ رو رہا ہوں
قفس میں گر بال و پر نہ کٹتے مجھے اسیری کا غم نہ ہوتا
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s