اِس اماوس کی گھنی رات میں مہتاب کہاں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 50
نیند تو خواب ہے اور ہجر کی شب خواب کہاں
اِس اماوس کی گھنی رات میں مہتاب کہاں
رنج سہنے کی مرے دل میں تب و تاب کہاں
اور یہ بھی ہے کہ پہلے سے وہ اعصاب کہاں
مَیں بھنور سے تو نکل آئی،اور اب سوچتی ہوں
موجِ ساحل نے کیا ہے مجھے غرقاب کہاں
مَیں نے سونپی تھی تجھے آخری پُونجی اپنی
چھوڑ آیا ہے مری ناؤ تہہِ آب کہاں
ہے رواں آگ کا دریا مری شریانوں میں
موت کے بعد بھی ہو پائے گا پایاب کہاں
بند باندھا ہے سَروں کا مرے دہقانوں نے
اب مری فصل کو لے جائے گا سیلاب کہاں
پروین شاکر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s