اندھیرے میں نظر نہ آیا میخانہ تو کیا ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 21
ہوا شب کو عبث مئے کے لئے جانا تو کیا ہو گا
اندھیرے میں نظر نہ آیا میخانہ تو کیا ہو گا
چمن والو قفس کی قید بے میعاد ہوتی ہے
تمھیں آؤ تو آ جانا میرا آنا تو کیا ہو گا
گرا ہے جام خود ساقی سے اس پر حشر برپا ہے
مرے ہاتھوں سے چھوتے گا پیمانہ تو کیا ہو گا
جگہ تبدیل کرنے کو تو کر لوں ساقی میں
وہاں بھی آ سکا مجھ تک نہ پیمانہ تو کیا ہو گا
بہارِ گل بنے بیٹھے ہو تم غیروں کی محفل میں
کوئی ایسے میں ہو جائے دیوانہ تو کیا ہو گا
سرِ محشر مجھے دیکھا تو وہ دل میں یہ سوچیں گے
جو پہچانا تو کیا ہو گا نہ پہچانا تو کیا ہو گا
حفاظت کے لئے اجڑی ہوئی محفل میں بیٹھے ہیں
اڑا دی گر کسی نے خاکِ پروانہ تو کیا ہو گا
زباں تو بند کرواتے ہو تم اللہ کے آگے
کہا ہم نے اگر آنکھوں سے افسانہ تو کیا ہو گا
قمر اس اجنبی محفل میں تم جاتے تو ہو لیکن
وہاں تم کو کسی نے بھی نہ پہچانا تو کیا ہو گا
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s