آج گر صحرا میں ہوں کل خانۂ زنجیر میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 66
ایک جا رہنا نہیں لکھا میری تقدیر میں
آج گر صحرا میں ہوں کل خانۂ زنجیر میں
اقربا نا خوش وہ بزمِ دشمنِ بے پیر میں
موت ہی لکھی ہی کیا بیمار کی تقدیر میں
بات کر میری لحد پر غیر ہی سے بات کر
یہ سنا ہے پھول جھڑتے ہیں تری تقریر میں
سیکھ اب میری نظر سے حسن کی زیبائشیں
سینکڑوں رنگینیاں بھر دیں تری تصویر میں
پاسِ آدابِ اسیری تیرے دیوانے کو ہے
ورنہ یہ زنجیر کچھ زنجیر ہے زنجیر میں
ڈھونڈتا پھرتا ہوں ان کو وہ قمر ملتے نہیں
شام کی رنگینیوں میں، صبح کی تنویر میں
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s