آتا ہوں ہے کے گھر سے تیری قسم ابھی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 105
وہ فتنہ ساز دے کے گیا ہے یہ دم ابھی
آتا ہوں ہے کے گھر سے تیری قسم ابھی
ظالم وہ دیکھ پاس سے اٹھتے ہیں چارہ گر
تیرے مریضِ ہجر نے توڑا ہے دم ابھی
ان کے لیئے تو کھیل ہے دنیا کا انقلاب
چاہیں تو بتکدے کو بنا دیں حرم ابھی
کیا آپ سا کوئی نہیں ہے جہاں میں
اچھا حضور آئینہ لاتے ہیں ہم ابھی
کوچے سے ان کے اٹھتے ہی یوں بدحواس ہوں
آیا ہوں جیسے چھوڑ کے باغِ ارم ابھی
ذوق الم میں حق سے دعا مانگتا ہوں میں
جتنے بھی مجھ کو دینے ہیں دے دے الم ابھی
شکوے فضول گردشِ دوراں کے اے قمر
یہ آسماں نہ چھوڑے گا جورو ستم ابھی
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s