آئینے ٹوٹ جاتے ہیں آئینہ ساز سے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 120
شکوہ شکستِ دل کا ہو کیا دستِ ناز سے
آئینے ٹوٹ جاتے ہیں آئینہ ساز سے
اب التماسِ دید کروں تو گناہ گار
واقف میں ہو گیا ترے پردے کے راز سے
ہر شے انہیں کی شکل میں آنے لگی نظر
شاید گزر گیا میں حدِ امتیاز سے
خود آئیں پوچھنے وہ مرے پاس حالِ دل
کچھ دور تو نہیں ہے مرے کار ساز سے
اے شیخ مے کدے سے نکل دیکھ بال کے
واپس نہ آ رہے ہوں نمازی نماز سے
اللہ ان کو عشق کی کیونکر خبر ہوتی
واقف نہ تھا کوئی بھی مرے دل کے راز سے
بھیدی ہوں گھر کا مجھ سے نہ چل چال اے فلک
واقف قمر ہے خوب تری سازباز سے
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s