آؤ مل لو عید یہ موقع نہیں تکرار کا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 17
آج کے دن صاف ہو جاتا ہے دل اغیار کا
آؤ مل لو عید یہ موقع نہیں تکرار کا
رخ پہ گیسو ڈال کر کہنا بتِ عیار کا
وقت دونوں مل گئے منہ کھول دو بیمار کا
جاں کنی کا وقت ہے پھِرتی نہ دیکھو پتلیاں
تم ذرا ہٹ جاؤ دم نکلے گا اب بیمار کا
حرج ہی کیا ہے الگ بیٹھا ہوں محفل میں خموش
تم سمجھ لینا کہ یہ بھی نقش ہے دیوار کا
اس قفس والے کی قسمت قابل اِفسوس ہے
چھوٹ کر جو بھول جائے راستہ گلزار کا
بات رہ جائے گی دیکھ آؤ گھڑی بھر کے لیئے
لوگ کہتے ہی کے حال اچھا نہیں بیمار کا
کس طرح گزری شبِ فرقت قمر سے یہ نہ پوچھ
رات بھر ڈھونڈا ہے تارہ صبح کے آثار کا
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s