کبھی چراغ بھی چلتا ہے اس حویلی میں

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 41
خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جھک کے کھڑکی میں
کبھی چراغ بھی چلتا ہے اس حویلی میں
یہ آدمی ہیں کہ سائے ہیں آدمیت کے
گزر ہوا ہے مرا کس اجاڑ بستی میں
جھکی چٹان پھسلتی گرفت جھولتا جسم
میں اب گرا ہی گرا تنگ و تار گھاٹی میں
زمانے بھر سے نرالی ہے آپ کی منطق
ندی کو پار کیا کس نے الٹی کشتی میں
جلائے کیوں اگر اتنے ہی قیمتی تھے خطوط
کریدتے ہو عبث راکھ اب انگیٹھی میں
عجب نہیں جو اگیں یاں درخت پانی کے
کہ اشک بوئے ہیں شب بھر کسی نے دھرتی میں
مری گرفت میں آکر نکل گئی تتلی
پروں کے رنگ مگر رہ گئے ہیں مٹھی میں
چلو گے ساتھ مرے آگہی کی سرحد تک؟
یہ رہ گزار اترتی ہے گہرے پانی میں
میں اپنی بے خبری سے شکیب واقف ہوں
بتاؤ پیچ ہیں کتنے تمہاری پگڑی میں
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s