پیش آتے ہیں رعونت سے جفا کار یہاں

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 39
عشق پیشہ نہ رہے داد کے حق دار یہاں
پیش آتے ہیں رعونت سے جفا کار یہاں
سر پٹک کر درِ زنداں پہ صبا نے یہ کہا
ہے دریچہ نہ کوئی روزنِ دیوار یہاں
عہد و پیمانِ وفا، پیار کے نازک بندھن
توڑ دیتی ہے زر و سیم کی جھنکار یہاں
ننگ و ناموس کے بکتے ہوئے انمول رتن
لب و رخسار کے سجتے ہوئے بازار یہاں
سرخیِٔ دامنِ گل کس کو میسّر آئی
اپنے ہی خوں میں نہائے لب و رخسار یہاں
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s