نہیں ہے کوئی بھی اپنا مزاج داں لوگو

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 34
ہر ایک بات ہے منّت کشِ زباں لوگو
نہیں ہے کوئی بھی اپنا مزاج داں لوگو
کچھ اس طرح وہ حقائق کو سن کے چونک اٹھے
بکھر گئیں سرِ محفل پہیلیاں لوگو
مرے لبوں سے کوئی بات بھی نہیں نکلی
مگر تراش ،کیں تم نے کہانیاں لوگو
بہارِ نو بھی انہیں پھر سجا نہیں سکتی
بکھر گئی ہیں جو پھولوں کی پتّیاں لوگو
بڑا زمانہ ہوا آشیاں کو راکھ ہوۓ
مگر نگاہ ہے اب تک دھواں دھواں لوگو
خطا معاف کہ مے سے شکیبؔ منکر ہے
اسے عزیز ہیں دنیا کی تلخیاں لوگو
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s