مجھ پہ مائل بہ کرم ہے تو مجھے دریا دے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 62
جو بھی ہے طالبِ یک ذرّہ، اسے صحرا دے
مجھ پہ مائل بہ کرم ہے تو مجھے دریا دے
کب سے ہوں حسرتی، یک نگہِ گرم، کہ جو
محفلِ شوق کے آداب مجھے سمجھا دے
رختِ جاں کوئی لٹانے ادھر آ بھی نہ سکے
ایسے مشکل تو نہیں دشتِ وفا کے جا دے
بیتی یادوں کا تقاضا تو بجا ہے لیکن
گردشِ شام و سحر کیسے کوئی ٹھہرا دے
مجھ کو زنداں میں بھی مل جائے گا عنوانِ جنوں
نکہتِ گل کو کریں قید خیاباں زا دے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s