لے اڑی جانے کہاں صرصرِ حالات ہمیں

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 44
اب میسّر نہیں فرصت کے وہ دن رات ہمیں
لے اڑی جانے کہاں صرصرِ حالات ہمیں
آج وہ یوں نگہِ شوق سے بچ کر گزرے
جیسے یاد آئے کوئی بھولی ہوئی بات ہمیں
کیسے اڑتے ہوئے لمحوں کا تعاقب کیجے
دوستو اب تو یہی فکر ہے دن رات ہمیں
نہ سہی کوئی، ہجومِ گل و لالہ نہ سہی
دشت سے کم بھی نہیں کنجِ خیالات ہمیں
وہ اگر غیر نہ سمجھے تو کوئی بات کریں
دلِ ناداں سے بہت سی ہیں شکایات ہمیں
دھوپ کی لہر ہے تو، سایۂِ دیوار ہیں ہم
آج بھی ایک تعلق ہے ترے سات ہمیں
رنگ و مستی کے جزیروں میں لیے پھرتے ہیں
اس کی پائل سے چرائے ہوئے نغمات ہمیں
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s