دل کا کنول بجھا تو شہر تیرہ و تار ہو گئے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 58
پردۂِ شب کی اوٹ میں زہرہ جمال کھو گئے
دل کا کنول بجھا تو شہر تیرہ و تار ہو گئے
ایک ہمیں ہی اے سحر نیند نہ آئی رات بھر
زانوئے شب پہ رکھ کر سر، سارے چراغ سو گئے
راہ میں تھے ببول بھی رودِ شرر بھی دھول بھی
جانا ہمیں ضرور تھا گل کے طواف کو گئے
دیدہ ورو بتائیں کیا تم کو یقیں نہ آئے گا
چہرے تھے جن کے چاند سے سینے میں داغ بو گئے
داغِ شکست دوستو دیکھو کسے نصیب ہو
بیٹھے ہوئے ہیں تیز رو سست خرام تو گئے
اہلِ جنوں کے دل شکیبؔ نرم تھے موم کی طرح
تیشۂِ یاس جب چلا تودۂِ سنگ ہو گئے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s