خیمۂِ گل کے پاس ہی دجلۂِ خوں بھی چاہیئے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 59
موجِ صبا رواں ہوئی، رقصِ جنوں بھی چاہیئے
خیمۂِ گل کے پاس ہی دجلۂِ خوں بھی چاہیئے
کشمکشِ حیات ہے ، سادہ دلوں کی بات ہے
خواہشِ مرگ بھی نہیں، زہرِ سکوں بھی چاہیئے
ضربِ خیال سے کہاں ٹوٹ سکیں گی بیڑیاں
فکرِ چمن کے ہم رکاب جوشِ جنوں بھی چاہیئے
نغمۂِ شوق خوب تھا، ایک کمی ہے مطربہ
شعلۂِ لب کی خیر ہو، سوزِ دروں بھی چاہیئے
اتنا کرم تو کیجیے ، بجھتا کنول نہ دیجیے
زخمِ جگر کے ساتھ ہی دردِ فزوں بھی چاہیئے
دیکھیے ہم کو غور سے ، پوچھیے اہلِ جور سے
روحِ جمیل کے لیے حالِ زبوں بھی چاہیئے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s